سفر نامہ’’ایران میں کچھ دن‘‘ میرے احساسات اور تاثرات سید ظفر الاسلام

زیرِ نظر کتاب ایران کے مقامات کی سیر کرانے کے علاوہ وہاں کے سماجی، معاشی، سیاسی، ثقافتی، تاریخی، علمی اور ادبی، تحقیقی پہلوؤں کی جھلکیاں بھی دکھاتی ہے۔نیک خواہشات کے ساتھ عزیزی محمد علم اللہ کے مستقبل...

سفر نامہ’’ایران میں کچھ دن‘‘ میرے احساسات اور تاثرات سید ظفر الاسلام

کتاب کا سرورق اور بیک ٹائٹل بھی ساتھ میں منسلک ہے ۔

​​​

​​سفر نامہ’’ایران میں کچھ دن‘‘

میرے احساسات اور تاثرات

سید ظفر الاسلام

میں ادیب تو نہیں؛ لیکن ادب نوازی کی کوشش کرتا ہوں، مجھے سفر نامے پڑھنے سے کافی دلچسپی رہی ہے اور جب مجھے محمد علم اللہ نے اپنی ایک نئی کتاب ’’ایران میں کچھ دن‘‘ مرحمت کی ،تو مجھے بہت خوشی ہوئی،اس کتاب کو دہلی کے معروف اشاعتی ادارہ فیروس میڈیا ہاؤس ، جامعہ نگر دہلی، نے بہت اہتمام سے شائع کیاہے۔مجھے عرصہ ہو گیا تھا کوئی سفر نامہ پڑھے ہوئے؛اس لیے بڑی دلچسپی سے اس کتاب کا مطالعہ کیا، جس میں ایک خاص بات یہ محسوس ہو ئی کہ اس کا بیان’’گھر سے گھر تک‘‘ ہے جو اکمالیت کا احساس کراتا ہے۔ ان کا یہ سفر علمی، صحافتی اور تحقیقی نوعیت کا تھا؛ اس لیے اس کی یادوں، باتوں اور ملاقاتوں، یہاں تک کہ اپنے مشاہدات اور محسوسات کو جیسا انھوں نے دیکھا ،قلم سے قرطاس پر اتار دیاہے،یہ بات انھوں نے اپنی کتاب کے مقدمے میں بھی کہی ہے۔

کتاب کی ابتدا اس جملے سے ہوتی ہے:

’’زندگی سفرہے اور ہم آغازِ سفر سے ہی انجانے رستوں کے راہی ہیں، بچے کا نازک وجود جیسے ہی اس دنیا میں جنم لیتا ہے، وہ اس دنیا کا راہی بن کر رفتہ رفتہ سفر پر پَگ بڑھاتا رہتا ہے، آواز سے انداز کے سفر پر، لمس سے محبت اور نفرت کے سفرپر، نرمی اورگرمی کے سفرپر، ضرورت کی خاطر صعوبت اور مشکلات کے سفر پر دنیا کی پگڈنڈیوں پرچلنا شروع کر دیتا ہے، اَن دیکھے رستے قدموں کو بلاتے ہیں یا قدم نئے رستوں کی کھوج میں خود بخود اٹھنے لگتے ہیں، یہ بھید کوئی نہیں جانتا کہ کب، کہاں اور کیسے اس سفر کی انتہا ہوگی، یہ کھوج، تلاش اور منزل کی چاہ وقت اور حالات کے ساتھ مستقل چلتی رہتی ہے، جو دل و دماغ میں کبھی مدھرسنگیت کی طرح بجتی رہتی ہے ،تو کبھی دکھ دیتی،ستاتی اور راہی کو اسکی کامنا اور تمنا میں سرگرداں لیے پھرتی ہے‘‘۔

مصنف نے جب سفر کا آغاز کیا، اس وقت اس علاقے کے حالات کچھ زیادہ خراب تھے، شام، لبنان، ترکی ؛ہر جگہ بے چینی اور اضطراب کا ماحول تھا؛ اس لیے مصنف کے والدین بہت زیادہ پریشان تھے،وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کا بچہ ایسے ماحول میں سفر پر نکلے،اصل میں والدین خاص طور پر ماؤں کے دل پر اولاد کی گھر سے روانگی کے وقت کیا گزرتی ہے، اس کا اندازہ اہلِ درد ہی لگا سکتے ہیں؛ لیکن علم اللہ اپنے والدین کو منانے میں کامیاب رہے، سفر پر گئے اور بعد میں پوری کتاب ہی لکھ ڈالی، جو دلچسپ معلومات سے خالی نہیں ہے،اتنی اچھی کتاب لکھنے پر وہ یقیناًمبارکباد کے مستحق ہیں۔

کسی تحریر کی کامیابی اس وقت مانی جاتی ہے ،جب قاری اسی ماحول میں جینے لگے، اسے محسوس کرے اور اس میں کھو جائے، میرے ساتھ بھی ایسا ہوا ،میں بھی مصنف کے ساتھ ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے لگا اور اپنے چشمِ تصور سے ایران کے حسین مقامات، وہاں کی عمارتوں، جگہوں،پہاڑیوں، مسجدوں، شاہراہوں اور علمی و ادبی دانش گاہوں کی سیر کرنے لگا، لوگوں سے ملاقات اور باتیں کیں، وہاں کی مذہبی روایات، ثقافت، سماجی ماحول، رہن سہن اور زمینی منظر نامے سے واقفیت ہی حاصل نہیں کی؛ بلکہ مصنف کے ساتھ پوری طرح شریکِ سفر ہو کراس کا لطف لیتا اور محظوظ ہوتا رہا۔

منظر نامے کی کچھ جھلکیاں ،جو میں نے محسوس کیں:

’’جگہ جگہ فارسی کے خوب صورت بورڈ دل کو لبھا رہے تھے اور قربت کا احساس دلارہے تھے، پتھریلی زمین ہونے کے باوجود سڑکوں کے کنارے پر درختوں کی قطاریں فرحت بخش ٹھنڈک کا احساس دلا رہی تھیں‘‘۔

فارسی کے بورڈ سے تھوڑی اپنائیت کا احساس اس لیے بھی ہوتا ہے کہ ہم اردو جانتے ہیں۔

’’تہران چاروں طرف پہاڑیوں سے گھرا ہوا ہے؛ لیکن پورا علاقہ چھوٹی بڑی پہاڑیوں پر مشتمل ہونے کے باوجود سر سبز و شاداب نظر آتا ہے، جگہ جگہ درخت، پارک اور پیڑ پودے دیکھنے کو ملتے ہیں ،جو ایرانیوں کے ذوق اور فطرت کی عکاسی کرتے ہیں‘‘۔

مجھے ایک نئی اصطلاح معلوم ہوئی،ایک لکچر کا موضوع تھا’’جنگ نرم اور عصر حاضر‘‘اس ضمن میں علم اللہ لکھتے ہیں:

’’جنگ نرم‘‘میں اس بات کا اندازہ نہیں لگ پاتا کہ آپ کا دشمن کون ہے، یہ جنگ اسلحہ، باروداورتوپ سے نہیں لڑی جاتی؛ بلکہ اس میں لڑائی افکار اور لائحۂ عمل سے لڑی جاتی ہے، اس میں آپ دشمن کو نہیں دیکھتے؛لیکن دشمن آپ پر گہری نظر رکھتا ہے‘‘۔

مجھے لگتا ہے کہ یہ مسلمانوں کے خلاف بہت خطرناک جنگ ہے اور واقعی ہم اس کے شکار ہیں،یہ لمحہ فکریہ ہے اور ہمیں اس پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ایران کے لوگ بہت ہنرمند اور نفاست پسند ہوتے ہیں، یہ ایک عجیب جاذبیت کا حامل ملک ہے۔ یہاں حسن و خوبی کی کمی نہیں ہے:

’’ ایرانی دو شیزائیں جس طرح اپنے گلابی چہروں اور سر و قد چھریرے بدنوں کو کالی چادروں سے ڈھانپے رکھتی ہیں، ایران ٹھیک اسی طرح اپنے خوبصورت مناظر کو سرمئی پہاڑوں اور سیاہی مائل ریگستانوں کے پردوں میں چھپائے رکھتا ہے‘‘۔

ایران کے لوگ عربوں کی طرح ہی مہمان نواز ہوتے ہیں،وہاں کے لوگوں کے مزاج کے بارے میں:

’’ایران کے لوگ کافی مہمان نواز ہیں، کسی بیرونی ملک کے باشندے کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں، اکثر اوقات ان کی مہربانی اور محبت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ تھوڑی دیر بات کرنے کے بعد، آپ کے بہت قریب آجاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ آپ کو گھر چلنے پراصرار کریں گے اور کھانے کی دعوت دیں گے‘‘۔

یہاں مسجدوں میں اور مقبروں میں ہمہ وقت ریکارڈڈ سوز اور مرثیے بجتے رہتے ہیں:

’’موسیقی کا اثر شخصیت پر پڑتا ہے، شاید اسی وجہ سے ایرانی ایک افسردہ قوم نظر آتی ہے، ان کی افسردگی صرف ان کے چہرے سے عیاں نہیں ہوتی؛ بلکہ ایرانی منظرنامے میں بھی اسکے اثرات دکھائی دیتے ہیں‘‘۔

ایک اقتباس اور نقل کرتا ہوں :

’’تمام مسلمان،کیا پڑھے لکھے اور کیا ان پڑھ،اکثر محض سنی سنائی باتوں پر یقین رکھتے ہیں اور اپنے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرتوں کی غلاظت اٹھائے پھرتے ہیں‘‘۔

زیرِ نظر کتاب ایران کے مقامات کی سیر کرانے کے علاوہ وہاں کے سماجی، معاشی، سیاسی، ثقافتی، تاریخی، علمی اور ادبی، تحقیقی پہلوؤں کی جھلکیاں بھی دکھاتی ہے۔نیک خواہشات کے ساتھ عزیزی محمد علم اللہ کے مستقبل کے لیے ڈھیروں دعائیں!

آن لائن کتاب اس لنک سے حاصل کر سکتے ہیں ۔

https://pharosmedia.com/books/product/9788172211011/​

 

 

          

हस्तक्षेप से जुड़े अन्य अपडेट लगातार हासिल करने के लिए हमें
facebook फेसबुक पर फॉलो करे.
और
facebook ट्विटर पर फॉलो करे.
"हस्तक्षेप"पाठकों-मित्रों के सहयोग से संचालित होता है। छोटी सी राशि से हस्तक्षेप के संचालन में योगदान दें।